4 مئی 2013 - 19:30
مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کا مقصد شیعہ سنی تفرقہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ منصور حقیقت پور نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کا مقصد شیعہ و سنی کے درمیان تفرقہ ڈالنا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ منصور حقیقت پور نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کا مقصد شیعہ و سنی کے درمیان تفرقہ ڈالنا ہے۔اطلاعات کے مطابق منصور حقیقت پور نے کہا کہ وہابیت اور سلفی مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کر کے شیعہ و سنی اور دیگر اسلامی گروہوں کے درمیان اختلافات ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحابی رسول حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے مزار اور قبر کی بے حرمتی کو ایک ناقابل معافی جرم ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا ہے کہ صحابی رسول حصرت حجر بن عدی کے مزار کی بے حرمتی اگرچہ ایک غیر انسانی اور غیر اسلامی اقدام ہے لیکن یہ دہشت گردوں اور ان قدامت پسند حامیوں کی شکست کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغرب علاقے کے بعض رجعت پسند ممالک کی ہم آہنگی کے ساتھ شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگا کر شام میں سرگرم دہشت گردوں کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کے اپنے اقدامات پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ادھر عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی نے بھی کہا ہے کہ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرنے والے صیہونیوں اور امریکہ کے خفیہ اداروں کے پروردہ ہیں۔ اس عالمی کونسل نے اپنے ایک بیان میں دمشق میں حضرت حجر بن عدی کے مزار کی بے حرمتی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائی کرنے والے صیہونیوں اور امریکہ کے خفیہ اداروں کے پروردہ ہیں اور اس جرم نے مجرموں کے حقیقی چہرے کو بےنقاب کر دیا ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲